اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات اب خلیجی معیشتوں پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، خاص طور پر دبئی میں جہاں سیاحت اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جاری علاقائی تنازع کے باعث سرمایہ کاروں اور غیر ملکی کارکنوں کی بڑی تعداد ملک چھوڑ رہی ہے، جس سے نہ صرف کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ کرایہ داری کے نظام پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ دبئی کی آبادی کا تقریباً 90 فیصد حصہ غیر ملکیوں پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے معاشی جھٹکوں کا اثر فوری طور پر رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پر پڑتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی معیشت میں سیاحت کا حصہ تقریباً 13 فیصد ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ ہوٹلوں کی بکنگ میں شدید کمی آئی ہے اور کئی ہوٹلوں میں عملے کو یا تو فارغ کیا جا رہا ہے یا تنخواہوں میں کمی کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق مارکیٹ تیزی سے نچلی سطح (bottom) کی طرف جا رہی ہے، جبکہ کئی رہائشی سستے یا چھوٹے گھروں کی تلاش میں ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو دبئی جیسے عالمی تجارتی و سیاحتی مرکز کو طویل مدتی معاشی نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہونے سے نہ صرف رئیل اسٹیٹ بلکہ مجموعی معیشت بھی سست روی کا شکار ہو سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ